سورۃ الاعراف ۔ آڈی دیوار 7

0
104

سورۃ الاعراف ۔ آڈی دیوار 7

سورۃ : 7 کل  آیتیں : 206

جنت اور دوزخ کے درمیان ایک چوڑی دیوار آڑمیں ہوگی۔ جنت اور دوزخ میں نہ بھیجے جانے والوں میں سے بعض لوگ اس میں ٹہرائے جائیں گے۔ وہ آڑ ی دیوار ہی اعراف کہلاتا ہے۔ اس کے بارے میں اس سورت کے 49,48,47,46 وغیرہ آیتوں میں کہا گیا ہے، اسی لئے اس سورت کا نام الاعراف ہے۔

بہت ہی مہربان نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے …

1۔ الف،لام، میم، صاد2۔ 

2۔ (یہ) کتابِ الہٰی ایمان والوں کے لئے نصیحت اور اس کے ذریعے (اے محمد!) لوگوں کو تنبیہ کرنے کے لئے تم پر نازل کی گئی ہے۔ پس تمہارے دل میں کوئی خلش پیدا نہ ہو۔ 

3۔ جو تمہارے رب کی طرف سے تمہیں عطا ہوئی ہے، اسی کی پیروی کرو۔ اس کے سوا (دوسروں کو) سرپرست بنا کر ان کی پیروی نہ کرو۔ تم کم ہی سبق حاصل کر تے ہو۔

4۔ ہم نے کئی بستیاں تباہ کر چکے۔ ان بستیوں میں ہمارا عذاب رات کے وقت یا دوپہر میں جب وہ لوگ سورہے تھے، آ پہنچا۔

5۔ جب ان پر ہمارا عذاب آیا تویہ کہنے کے سوا کہ ہم نے ظلم کردئے ان کی پکارکچھ نہ تھی ۔

6۔ جن کے پاس ہم پیغمبر بھیجے تھے انہیں بھی دریافت کریں گے اور پیغمبروں سے بھی سوال کریں گے۔

7۔ (ہم) جاننے کی وجہ سے انہیں سمجھائینگے ۔ ہم بے خبر نہیں ہیں۔ 

8۔ اس دن 1تخمینہ کیا جانا حق ہے۔ (نیکی کا) وزن زیادہ رکھنے والے ہی فتحیاب ہوں گے۔ 

9۔ (نیکی کا) وزن ہلکا رکھنے والے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔ ہماری آیتوں کے معاملے میں بے انصافی برتنا ہی اس کی وجہ ہے۔ 

10۔ ہم نے تمہیں زمین میں جینے دیا ہے175۔ اس میں تمہیں سہولتوں کا موقع بھی پیدا کیاہے۔ تم بہت کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔

11۔ تمہیں پیدا کیا، پھر تمہاری شکل و صورت بنائی، پھرفرشتوں سے کہا کہ آدم کی تعظیم کرو۔ ابلیس کے سوا سب نے تعظیم کی۔ وہ تعظیم کر نے والوں میں سے نہیں تھا۔ 

12۔ (اللہ نے) کہا کہ جب تمہیں حکم دیاگیا تو تعظیم11 کرنے سے تمہیں کس چیزنے روکا؟ اس نے کہا 506کہ میں اس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی 503سے پیدا کیا ہے۔ 

13۔ (اللہ نے) کہا کہ تم یہاں سے اتر جاؤ۔ تم یہاں تکبر کرنا مناسب نہیں ہے۔ پس تم نکل جاؤ۔ تم ذلیل ہو چکے ہو۔ 

14۔ اس نے کہا کہ وہ زندہ کئے جا نے والے دن1 تک مجھے مہلت دے۔ 

15۔ (اللہ نے) کہا کہ تو مہلت دیا جانے والا ہوگیا۔ 

16۔ اس نے کہا کہ تو مجھے گمراہ کر دینے کی وجہ سے ان کے لئے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھ جاؤں گا۔ 

17 ۔(وہ یہ بھی کہا کہ) پھر ان کے آگے سے، پیچھے سے، دائیں اور بائیں سے ان کے پاس آؤں گا۔ ان میں سے اکثر کو تم شکر گزار نہ پاؤگے۔ 

18۔(اللہ نے) کہا کہ ذلیل و خوار اور دھتکارا ہوا تو یہاں سے نکل جا۔ان (انسانوں) میں سے اور تم (جنوں) میں سے جو بھی تیری پیروی کریں گے سب لوگوں سے جہنم بھردوں گا۔

19۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اے آدم! تم اور تمہاری بیوی اس جنت میں رہو۔ تم دونوں جہاں سے چاہو کھاؤ اور اس درخت 13کے قریب مت جاؤ۔ (قریب جاؤگے تو) دونوں ظالموں میں سے ہوجاؤگے۔ 

20۔ ان دونوں کو چھپی ہوئی شرم گاہوں کے متعلق پہچان کرانے کے لئے شیطان نے ان دونوں کو برے خیالات پیدا کیا174۔ اس نے کہا کہ تم دونوں فرشتہ نہ بن جائیں اور یہیں ہمیشہ رہنے والے نہ بن جائیں،اسکے سوا اللہ نے اس درخت 13سے تمہیں نہیں روکا ۔

21۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں توتم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔ 

22۔ ان دونوں کو فریب دے کر (ان کا درجہ) گھٹا دیا۔ وہ دونوں نے جب اس درخت13 کو چکھا تو ان کی شرم گاہوں کا انہیں احساس ہوا174 ۔ ان دونوں نے جنت کے12 پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانک لینے کی کوشش کی۔اللہ نے انہیں پکار کر کہا کہ کیا میں تمہیں اس درخت13 سے نہیں روکا تھا؟ کیا میں تم سے یہ نہیں کہاتھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا ہوا دشمن ہے؟ 

23۔ ان دونوں نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار! ہم نے خود پر ظلم کیا۔ اگر تو ہمیں معاف نہ کرے اور رحم نہ فرمایا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے۔ 

24۔ (اللہ نے) کہاکہ (یہاں سے) اتر جاؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے۔تمہارے لئے زمین میں ایک مقررہ مدت تک ٹہرنے کی جگہ اور آسائش175 ہیں۔ 

25۔ اور یہ بھی کہا 175کہ اسی میں جیوگے۔ اسی میں مروگے۔ اسی میں سے نکالے جاؤگے۔ 

26۔ اے بنی آدم! 504تمہاری شرم گاہوں کو چھپانے کیلئے لباس اور زینت تمہارے لئے نازل کی ہے۔ (اللہ سے) خوف کا لباس ہی بہتر ہے۔ وہ غور کر نے کے لئے یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے۔

27۔ اے بنی آدم! تمہارے والدین دونوں کو شیطان نے جس طرح جنت 12سے باہر نکالا اسی طرح تمہیں بھی وہ الجھن میں نہ ڈال دے۔ ان کی شرم گاہیں انہیں دکھانے کے لئے اس نے ان کے لباس اتروا دیا174۔ اس طرح کہ تم انہیں دیکھ نہیں سکو، وہ اور اس کا گروہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ہم نے شیطانوں کوایمان نہ رکھنے والوں کا دوست بنادیا۔ 

28۔ جب وہ بے حیائی کا کام کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح پایا ہے۔ اللہ ہی نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔ کہہ دو کہ اللہ بے حیائی کا حکم نہیں دے گا۔ کیا تم اللہ پر افترا باندھ کر ایسی باتیں کہتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں۔ 

29۔ کہہ دو کہ میرے رب نے انصاف کاحکم دیا ہے۔ ہر ایک نماز کی جگہ پر تمہارے خیالات یکسو کر لو۔ عبادت کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے اسی سے دعا کرو۔ وہ تمہیں جس طرح پہلی بارپیدا کیا اسی طرح لوٹوگے۔ 

30۔ بعض لوگوں کو اس نے سیدھی راہ دکھائی۔ اور بعض لوگوں پر گمراہی ثابت ہوگئی۔ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کرشیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اور یہ بھی سمجھنے لگتے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔ 

31۔ اے بنی آدم!504 ہر ایک نماز کے جگہ میں تم اپنی زینت کرلو۔176 کھاؤ، پیو، بے جا خرچ نہ کرو۔ فضول خرچ کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 

32۔ پوچھو کہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے جو زینت بخشی ہے اور پاکیزہ غذائیں دی ہیں اس کو حرام کر نے والا ہے کون ؟ اور کہو کہ وہ اس دنیا کی زندگی میں، خصوصاً قیامت کے دن میں ایمان والوں کے لئے ہے۔ جاننے والوں کے لئے ہم اسی طرح دلیلیں بیان کرتے ہیں۔ 
33۔ کہہ دو کہ بے حیائی میں علانیہ اور پوشیدہ باتیں، گناہیں، ناحق کی زیادتی، جس کے لئے اللہ نے کوئی دلیل اتاری نہ ہو، اسے اللہ کے لئے شریک ٹہرانا،جسے تم جانتے نہ ہواس کو اللہ پر افترا باندھنا ، ان تمام چیزیں اللہ نے تم پر حرام کی ہیں۔ 

34۔ ہر قوم کے لئے ایک مدت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آجائے تو تھوڑی دیر کے لئے بھی نہ وہ آگے بڑھ سکیں گے اور نہ پیچھے ہٹ سکیں گے۔ 

35۔ اے بنی آدم! میری آیتیں تمہیں سنانے کے لئے تم ہی میں سے جب پیغمبر تمہارے پاس آئیں تو (مجھ سے) ڈرتے ہوئے اپنی اصلاح کر نے والوں کو نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

36۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر اس کو جھٹلا نے والے ہی جہنمی ہیں۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

37۔ اللہ پر افترا باندھنے والے سے یا اس کی آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والے سے زیادہ ظالم کون ہے؟ جوان کا حصہ مقدر میں ہے وہ انہیں ملے گا۔انہیں(کے روح) قبض کر نے کے لئے جب ان کے پاس ہمارے رسول161 آتے ہیں تو165 وہ پوچھیں گے کہ اللہ کو چھوڑ کر تم جسے پکار رہے تھے ، وہ اب کہاں ہیں ؟ وہ کہیں گے کہ ہمیں چھوڑ کر وہ غائب ہوگئے۔ وہ اپنے ہی خلاف گواہی دیں گے کہ ہم (اللہ کا) انکار کر نے والے تھے۔ 

38۔ (اللہ) فرمائے گا کہ تم سے پہلے جوجنوں اور انسانوں کی قوم گزر چکی ان کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہوجاؤ۔ ہر ایک قوم اس میں داخل ہو تے وقت اپنے ساتھی قوم پر لعنت کرے گی۔ آخر جب سب لوگ جہنم میں جمع ہو جائیں گے تو ان میں پچھلے لوگ پہلے لوگوں کے بارے میں کہیں گے کہ اے ہمارے رب! یہی لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔پس انہیں جہنم کا عذاب دوگنا کردے۔ (وہ) کہے گا کہ ہر ایک کے لئے دوگنا ہے۔ لیکن تم جانتے نہیں۔ 

39۔ پہلے لوگ پچھلے لوگوں سے کہیں گے کہ ہم سے زیادہ تمہیں کوئی برتری نہیں۔ پس جو تم کررہے تھے اس کی وجہ سے 265عذاب کا مزہ چکھو۔

40۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر جھٹلا نے والوں کو آسمان507 کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے177 . جب تک سوئی کے ناکے میں اونٹ نہیں داخل ہوگی ، وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے۔ اسی طرح ہم مجرموں کو سزا دیتے ہیں۔ 

41۔ انہیں دوزخ سے بچھونا اور ان کے اوپر (دوزخ سے) اوڑھنا بھی ہے۔ ہم اسی طرح ظالم لوگوں کو سزا دیتے ہیں۔ 

42۔ جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہی جنتی ہیں۔ اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ہم تکلیف نہیں دیتے۔ 68

43۔ ان کے دلوں کی کدورتوں کو ہم نکال دیں گے۔ان کے نچھلے حصہ میں نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہ کہیں گے کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں ایسی راہ دکھائی۔ اگر اللہ ہمیں سیدھی راہ دکھایا نہ ہوتا تو ہم راہ راست پائے نہ ہوں گے۔ ہمارے پروردگارکے رسول حق ہی لے کر آئے۔ انہیں کہا جائے گا کہ تمہارے اعمال کی وجہ سے تمہارا جو حق ہے وہ جنت یہی ہے۔

44۔ اہل جنت اہل دوزخ سے پوچھیں گے کہ ہمارے رب نے ہمیں جو وعدہ کیا تھا ہم نے اسے یقین کے ساتھ پالیا۔ تمہارے رب نے جو وعدہ کیا تھا ، کیا تم نے اسے یقین کے ساتھ حاصل کرلیا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں۔ جب ان کے درمیان ایک پکارنے والا کہے گا کہ ظلم کرنے والوں پر اللہ کی لعنت6 ہے۔ 

45۔ انہوں نے اللہ کے راستے سے روک دیا۔اس کو ٹیڑھی راہ بھی سمجھے۔اور آخرت قبول کر نے سے انکار بھی کرتے رہے۔ 

46۔ ان دونوں کے درمیان ایک آڑ (دیواربھی) ہوگی۔اس آڑ ی دیوار پر کچھ لوگ ہوں گے۔ ہر ایک کو ان کی نشانی سے وہ پہچان لیں گے۔ جنتیوں کو بلا کرکہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ اگر وہ (دیواروالے )خواہش بھی کریں تو وہاں داخل نہیں ہونگے۔ 

47۔ ان کی نگاہیں جب دوزخ والوں پر پھیری جائیں گی تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب! ہمیں ظالم لوگوں کے ساتھ شامل نہ کردے۔ 

49,48۔ آڑ ی دیوار پر کھڑے ہوئے لوگ (دوزخ میں رہنے والے) کچھ لوگوں کو بلائیں گے۔ ان کی علامتوں سے وہ انہیں پہچان لیں گے۔ وہ کہیں گے کہ افراد کی تعداد اور تمہاری شان و شوکت تمہیں بچا نہیں سکی۔ کیا تم نے ان( جنتیوں) کے بارے میں قسم کھائی تھی کہ ان پر اللہ رحم نہیں فرمائے گا؟ (اس کے بعد، آڑ ی دیوار پر رہنے والوں کی طرف کہا جائے گا کہ) جنت میں داخل ہوجاؤ178۔ تمہارے لئے کوئی خوف نہیں اور تم غم زدہ بھی نہیں ہوں گے26۔

50۔ دوزخی، جنتیوں کو پکار کر کہیں گے کہ ہم پر تھوڑا سا پانی یا اللہ جو تمہیں عطا کیا ہے ، اس میں سے کچھ انڈیل دو۔ جنتی کہیں گے کہ (اس کے) انکار کر نے والوں کو وہ دونوں چیزیں اللہ نے حرام کردی ہیں۔ 

51۔انہوں نے اپنے دین کو بے جاکھیل تماشہ بنالیاتھا۔ اس دنیا کی زندگی انہیں فریفتہ کردیاتھا۔ جس طرح وہ آج کے دن 1کی ملاقات کو بھول کر ہماری آیتوں کا انکار کررہے تھے ،آج ہم بھی انہیں بھول گئے۔ 

52۔ ان کے پاس کتاب لے آئے ہیں۔ عقلِ سلیم کے ساتھ اسے ہم واضح کئے ہیں۔ ایمان رکھنے والوں کے لئے وہ ہدایت اور رحمت ہے۔ 

53۔ کیا وہ اس کتاب میں کی گئی تنبیہ کی انتظار میں ہیں؟جس دن وہ تنبیہ پوری ہو گی ، جواس سے پہلے اس دن کو بھولے ہوئے تھے، وہ لوگ کہیں گے کہ ہمارے رب کے پیغمبر حق بات ہی لے کر آئے تھے، ہمارے لئے سفارش کر نے والے کیاکوئی بھی ہمارے لئے سفارش17 نہیں کریں گے؟یا پھر سے ہم (دنیا میں) بھیجے نہیں جائیں گے؟ پہلے ہم جو کر رہے تھے اس کے برخلاف کر یں گے۔ وہ اپنے آپ پر نقصان مہیا کر لیا ہے۔ ان کی افترا پردازی ان سے گم ہوگئی ہے۔ 

54۔ تمہارا پروردگار اللہ ہی آسمانوں507 اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا179۔پھر عرش 488پر بیٹھ گیا۔ رات کو دن سے ڈھانک دیتا ہے۔ دن، رات کو تیزی سے پیچھا کرتا ہے۔ سورج، چاند اور ستاروں کو اپنے حکم سے تابع کیا۔ یاد رکھو! پیدا کرنا اور حکم چلانا اسی کے لئے ہے۔ سارے جہاں کا پروردگاربڑی با برکت والا ہے۔ 

55۔تم اپنے پروردگار سے عاجزی کے ساتھ اور چپکے سے دعا کیا کرو۔ حد سے تجاوز کر نے والوں کو وہ پسند نہیں کرتا۔ 180

56۔ زمین کی اصلاح کے بعد اس میں بگاڑ نہ پیدا کرو۔ خوف اور امیدکے ساتھ اس سے دعا کیا کرو۔ اللہ کی رحمت نیک کام کر نے والوں کے قریب ہے۔ 49

57۔ وہی اپنی رحمت سے پہلے خوشخبری کے طور پر ہواؤں کو بھیجتا ہے۔جب وہ بھاری بادلیں لادتا ہے تو ہم اسے مری ہوئی بستی کی طرف ہانک لے جاتے ہیں۔ پھر اس سے پانی اتار کر اس کے ذریعے سب طرح کے فائدے ظاہر کر تے ہیں۔ اسی طرح مردوں کو بھی ظاہر کریں گے۔ (اس کے ذریعے) تم عبرت حاصل کر سکتے ہو۔ 

58۔ بناتات اپنے رب کی مرضی سے اچھی زمین سے ظاہر ہوتی ہیں۔ خراب زمین میں ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔ شکر گزار لوگوں کے لئے اسی طرح ہم دلیلیں بیان کرتے ہیں۔ 

59۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کے پاس بھیجا ۔ انہوں نے فرمایا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا معبودکوئی نہیں۔تم پر عظمت والے دن 1کی عذاب سے میں ڈرتا ہوں۔

60۔ ان کی قوم کے سربراہوں نے کہا کہ ہم توتمہیں صریح گمراہی میں دیکھ رہے ہیں۔ 

61۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! میرے پاس کوئی گمراہی نہیں ہے۔ بلکہ میں تو سارے جہاں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ 

62۔ میرے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچاتا ہوں۔ تمہاری خیر خواہی چاہتا ہوں۔ جو تم نہیں جانتے وہ اللہ کی طرف سے جانتا ہوں۔ 

63۔ (یہ بھی کہا کہ) کیا تم کواس بات پر تعجب ہے کہ تمہیں تنبیہ کر نے کے لئے، تم (اللہ سے) ڈرنے کے لئے اور تم پر رحم فرمانے کے لئے، تمہارے اپنے ہی آدمی پرتمہارے رب کی طرف سے نصیحت آتی ہے۔ 

64۔ پھر بھی ان کو جھوٹا سمجھا۔ اس لئے ان کو اور ان کے ساتھ کشتی میں رہنے والوں کو ہم نے بچا لیا222۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کو ہم نے غرق کردیا۔ وہ جماعت اندے ہی تھے۔

65۔ ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا معبود کوئی نہیں۔ کیا تم (اللہ سے) نہیں ڈروگے؟

66۔ ان کے قوم میں (اللہ کا) انکار کر نے والے سربراہ کہنے لگے کہ ہم تو تمہیں بے وقوف سمجھتے ہیں اور جھوٹے بھی سمجھتے ہیں۔

67۔ انہوں نے کہا کہ میرے پاس کوئی جہالت نہیں ہے ۔ بلکہ میں سارے جہاں کے رب کا رسول ہوں۔

68۔ میرے رب کے پیغامات میں تمہیں پہنچاتا ہوں۔ میں تمہارا خیر خواہ ہوں اور امین ہوں۔ 

69۔(انہوں نے یہ بھی کہا کہ) تمہیں تنبیہ کر نے کے لئے تمہارے اپنے ہی آدمی کے ذریعے تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آتی ہے، کیا تمہیں تعجب لگتا ہے؟ یاد کرو کہ جب نوح کی قوم کے بعد اس نے تمہیں جانشین46 بنایا اور جسمانی ہئیت میں تمہیں زیادہ طاقت عطا فرمائی۔ اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو ، تم فلاح پاؤگے۔ 

70۔ انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہمارے باپ دادا جن کی عبادت کررہے تھے اس کو چھوڑ کر ہم صرف اللہ کی عبادت کریں؟ اگر تم سچے ہو تو تم جس کی دھمکی دیتے ہو ، اسے ہمارے پاس لے آؤ۔ 

71۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تمہارے رب کی طرف سے عذاب اور غضب تم پر واقع ہوگیا۔ تم اور تمہارے باپ دادا صرف نام رکھ لینے کے بارے میں (فرضی کردار وں کے بارے میں) کیا تم لوگ مجھ سے مباحثہ کر رہے ہو؟ اس کے متعلق اللہ نے کوئی دلیل نہیں اتاری۔ انتظار کرو، تمہارے ساتھ میں بھی انتظار کرتا ہوں۔ 

72۔ ان کو اور ان کے ساتھ رہنے والوں کو ہماری مہربانی سے بچا لیا۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کی جڑ کاٹ دی۔ وہ ایمان والے نہیں تھے۔ 

73۔ قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔اس کے سوا تمہارا معبود کوئی نہیں۔تمہیں تمہارے رب کی طرف سے دلیل آئی ہے۔ وہ تمہارے لئے نشانی اللہ کی اونٹنی ہے۔ اللہ کی زمین میں اسے چرنے چھوڑ دو۔ اس کو تکلیف نہ پہنچاؤ۔ (ایسا کروگے تو) تمہیں دردناک عذاب ہوگا۔ 

74۔ یاد کرو کہ قومِ عاد کے بعد تمہیں جانشین46 بنایا۔ زمین میں وہ تمہیں ٹھکانا دیا۔ اس کے نرم حصوں میں محل تعمیر کرتے ہو۔ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو۔ زمین میں فساد کرتے ہوئے نہ پھرو۔

75۔ ان کی قوم کے متکبر سربراہوں نے ان میں ایمان والے کمزوروں سے (مذاقاًً) پوچھاکہ کیا تم جانتے ہو کہ صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھیجے گئے رسول ہیں۔ (ان کمزوروں نے کہا) جو پیغام ان کو دے کر بھیجا گیا ہے ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں۔

76۔ متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس پر ایمان لائے ہو ہم اس کا انکار کرتے ہیں۔ 

77۔ پھر اس اونٹنی کو کاٹ ڈالا۔ اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی۔ اور کہنے لگے کہ اے صالح! اگر تم پیغمبر ہو تو جس کی تم نے ہمیں دھمکی دی اسے لے آؤ۔ 

78۔ اچانک انہیں زلزلہ نے آپکڑا۔ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں پڑے رہ گئے۔ 

79۔ (پڑے ہوئے ) ان لوگوں کو چھوڑ کر وہ ہٹ گئے۔ اور کہنے لگے کہ اے میری قوم! میں نے اپنے پروردگار کا پیغام تمہیں پہنچا دیا۔ تمہاری میں نے خیر خواہی کی۔ پس تم نے خیر خواہوں کو پسند نہیں کیا۔

80۔ لوط کو بھی (ہم نے رسول بنا کر بھیجا)۔ وہ اپنی قوم سے پوچھا کہ جو دنیا میں تم سے پہلے کسی نے نہیں کیا ، کیا تم ایسی بے حیائی کا کام کر تے ہو؟ 

81۔ (وہ یہ بھی کہا کہ) تم عورتوں کو چھوڑ کر شہوت رانی کے لئے مردوں کے پاس جا تے ہو؟ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔

82۔ ان کی قوم کا جواب یہی تھا کہ انہیں اپنی بستی سے نکال دو ۔ یہ تو پاکیزہ لوگ لگتے ہیں۔ 

83۔ پس ان کے بیوی کے سوا ان کو اور ان کے گھر والوں کو ہم نے بچا لیا۔ وہ ہلاک ہونے والوں میں سے ایک تھی۔ 

84۔ ان پر شدید بارش برسائی۔ غور کرو کہ مجرموں کا انجام کیسا رہا۔

85۔ شہر مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارامعبود کوئی نہیں۔ تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس مناسب دلیل آچکی ہے۔ پس ناپ اور تول پورا کرو۔ لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ کرو۔ زمین میں اصلاح ہو جا نے کے بعد اس میں فساد نہ پھیلاؤ۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہی تمہارے لئے بہتر ہے۔ 

86۔ ہر راستے پر (لوگوں کو) ڈرانے کے لئے مت بیٹھو۔ اللہ کی راہ کو کج روی بنا کر ایمان لانے والوں کو اس سے مت روکو۔ یاد کرو کہ تم تعداد میں کم تھے ، اس نے تمہیں زیادہ کردیا۔ غور کرو کہ فساد کرنے والوں کا انجام کیسا رہا۔

87۔ ( یہ بھی کہا کہ) جسے دے کر میں بھیجا گیا ہوں ، تم میں سے ایک گروہ ایمان لے آیا اور دوسرا گروہ ایمان نہ لایا تو اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر نے تک صبر سے رہو۔ وہ فیصلہ کر نے والوں میں بہت بہتر ہے۔ 

پارہ نمبر: 9

88۔ ان کی قوم کے متکبر علمانے کہا کہ اے شعیب! تم کو اور تمہارے ساتھ رہنے والے ایمان والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ یا تم ہمارے دین میں واپس آجاؤْ !( شعیب) نے کہا کہ کیا ہم (تمہارے دین کو) ناپسند کریں تب بھی؟ 

89۔ (اور یہ بھی کہا کہ) تمہارے دین سے اللہ نے ہمیں نجات دینے کے بعد اگر ہم اس طرف پھریں تو ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوجا ئیں گے۔ سوائے اللہ کی مرضی کے اس (دین کی) طرف واپس آنا ہم سے یہ نہیں ہوسکتا۔ ہمارا رب اپنے علم سے ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔ ہم اللہ ہی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے۔ تو ہی فیصلہ کر نے والوں میں بہتر ہے۔ 

90۔ ان کی قوم کے (اللہ کا) انکار کرنے والے سرداروں نے کہا کہ اگر تم شعیب کی پیروی کروگے توتم نقصان اٹھا نے والے ہوجاؤگے۔

91۔ انہیں اچانک زلزلہ نے آ پکڑا۔ صبح کے وقت وہ اپنے گھروں میں پڑے ہوئے تھے۔ 

92۔ شعیب کو جھوٹا سمجھنے والے ایسے رہ گئے گویا کہ(وہ اس سے پہلے) وہاں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب کو جھوٹا سمجھنے والے ہی نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ 

93۔ (گرے ہوئے) ان لوگوں کو چھوڑ کر وہ ہٹ گئے۔ اور کہنے لگے کہ اے میری قوم! اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا دیا۔ میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پھر (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے میں کیوں رنج کروں؟ 

94۔ کسی بھی بستی میں ہم کوئی نبی بھیجتے ہیں تو اس بستی والے عاجزی اختیار کرنے کے لئے انہیں ہم مفلسی اور بیماری میں مبتلا کئے بغیر نہیں رہتے۔ 

95۔ پھر ہم نے برائی کے عوض بھلائی بدل کر دی۔جب و ہ پھیلنے لگے توکہنے لگے کہ (نہ صرف ہمارے لئے)ہمارے آباو اجدادپر بھی غم اور خوشی پہنچی ہے۔ پھر ان کی بے خبری کی حالت میں ہم نے اچانک انہیں سزا دی۔ 

96۔ اس بستی والے ایمان لائے ہوتے اور (ہم سے ) ڈرتے تو ہم آسمانوں اور زمین سے ان کے لئے برکتیں کھول دئے ہوتے۔ بلکہ انہوں نے جھوٹ سمجھا۔ پس ان کے (برے) عمل کی وجہ 265سے انہیں سزا دی۔ 

97۔ کیا وہ بستی والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ رات میں جب وہ سو رہے ہوں تو ہمارا عذاب ان پر آپڑے؟

98۔ کیا وہ بستی والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ پہلے پہر میں جب وہ کھیل رہے ہوں تو ہمارا عذاب ان پر آپڑے؟ 

99۔ کیا وہ اللہ کی تدبیر6 سے بے خوف ہیں؟ خسارے والے لوگوں کے سوا (دوسرے کوئی) اللہ کی تدبیرسے بے خوف نہیں رہیں گے۔

100۔ اگر ہم چاہتے تو زمین کے حقدار وں سے (وہ تباہ ہو جانے کے بعد) اس پر قبضہ جمانے والوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں سزا دیتے، اور بغیر ان کے شنوائی کے ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے۔کیا تمہیں سمجھ میں نہیں آئی؟

101۔ (اے محمد!) ان بستیوں کے متعلق خبریں تمہیں سناتے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلوں کے ساتھ آئے۔ پہلے ہی سے وہ لوگ جھوٹ سمجھنے کی وجہ سے وہ ایمان لانے والے نہیں تھے۔ اسی طرح اللہ (اس کا) انکار کر نے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔ 

102۔ ان میں اکثر لوگوں کے پاس عہد کا نباہنا نہیں ہے۔ ان میں زیادہ تر لوگوں کو ہم نے جرم کرنے والا ہی پایا۔ 

103۔ ان کے بعد ہم نے موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس واضح دلیل کے ساتھ بھیجا۔ انہوں نے اسے قبول کر نے سے انکار کردیا۔ غور کرو کہ مفسدوں کا انجام کیسا رہا؟

104۔ موسیٰ نے کہا کہ اے فرعون! میں سارے جہاں کے پروردگار کا رسول ہوں۔ 

105۔ (اور یہ بھی کہا کہ) اللہ پر حق کے سوا (دوسرا کچھ) نہ کہنا مجھ پر فرض ہے۔ تمہارے رب کی طرف سے واضح دلیل تمہارے پاس لے آیا ہوں۔ پس تم میرے ساتھ اسرائیل کے لوگوں کو بھیج دے181۔

106۔ اس نے کہا کہ اگر تم سچے ہو اور دلیل لے کر آئے ہو تو اسے پیش کرو۔ 

107۔ تب انہوں نے اپنا عصا ڈال دیا ، تو وہ یکایک صریح سانپ بن گیا۔ 

108۔ وہ اپنا ہاتھ باہر دکھایا تو وہ دیکھنے والوں کو سفید دکھائی دیا۔ 

110,109۔ فرعون کے قومی سرداروں نے کہا26 کہ یہ توبڑا ماہر جادو گر357 ہے285۔تمہاری سرزمین سے وہ تمہیں باہر کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کیا حکم دیتے ہو؟ 

112,111۔ انہوں نے (فرعون سے) کہا26 کہ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دو۔( جادو گروں کو) اکٹھا کر لا نے کے لئے شہروں میں ہرکاروں کو بھیج دو۔ وہ ہرماہر جادوگر357 کو تمہارے پاس لے آئیں گے۔ 

113۔ جادوگر357 فرعون کے پاس آئے۔ پوچھنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو کیا ہمیں انعام ملے گا؟ 

114۔ (اس نے) کہا کہ ہاں، تم (میرے) مقرب ہو۔

115۔ انہوں نے پوچھا کہ اے موسیٰ! (شعبدہ) تم ڈال رہے ہو یا ہم ہی ڈالیں؟ 

116۔( موسیٰ نے) کہا کہ تم ہی ڈالو۔ جب وہ لوگ ( اپنا شعبدہ) ڈالے تو لوگوں کے آنکھوں کو نظر بندی کردی285۔ لوگوں کو دہشت زدہ کردیا۔ بہت بڑا جادو 357وہ لے آئے تھے۔ 

117۔ ہم نے موسیٰ سے کہا کہ اپنا عصا ڈالو۔ تو اچانک وہ ان کے سارے شعبدوں کو نگل گیا۔ 

118۔ حق قائم رہا۔وہ جو کر رہے تھے سب بے کار ہوگیا۔ 285 

119۔ وہاں وہ لوگ ہار گئے، ذلیل ہوگئے۔ 285

120۔ جادو گر سجدے میں گرپڑے۔ 285

122,121۔ کہنے لگے کہ ہم سارے جہاں کے پروردگار موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لے آئے۔ 26

123۔فرعون نے کہا کہ میں تمہیں اجازت دینے سے پہلے کیا تم ان پر ایمان لے آگئے؟ اس شہر سے اس کے حقداروں کو باہر کر نے کے لئے یہ تمہاری رچی ہوی سازش ہے۔ (اس کا انجام) عنقریب تم جان لوگے۔ 

124۔ (یہ بھی کہا کہ) میں تمہارے ہا تھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔ 

125۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے پروردگار ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ 

126۔ ہمارے پروردگار کی نشانیاں جب ہمارے پاس آگئیں تو ہم ان پر ایمان لے آئے، اسی لئے تم ہمیں سزا دے رہے ہو ۔ (فرعون سے یہ کہنے کے بعد کہا کہ) اے ہمارے پروردگار! ہم کو صبر عطا فرما اور ہمیں حالت اسلام پر 295موت دے۔

127۔ فرعون کے قومی سرداروں نے پوچھا کہ اس سر زمین میں فساد مچانے اورتمہیں اور تمہارے معبودوں کو جھٹلانے، کیا تم موسیٰ اور اس کی قوم کو یوں ہی رہنے دیں گے؟ فرعون نے کہا کہ ان کے مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو زندہ چھوڑ دیں گے۔ ہم تو ان پر غلبہ رکھتے ہیں۔ 

128۔ موسیٰ اپنی قوم سے کہا کہ اللہ سے مدد چاہو۔ صبر سے رہو۔ زمین تو اللہ ہی کی ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے۔ آخری انجام (اللہ سے) ڈرنے والوں کے حق میں ہی ہوگا۔ 

129۔ انہوں نے کہا کہ تم ہمارے پاس آنے سے پہلے اور تم ہمارے پاس آنے کے بعد بھی ہم ستائے جا رہے ہیں۔ موسیٰ نے کہا کہ تمہارا پروردگار تمہارے دشمن کو ہلاک کر کے تمہیں زمین میں (ان کا )بدل بنا کر46 دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

130۔ عبرت حاصل کر نے کے لئے ہم نے فرعون کی قوم کو کئی طرح کے قحط سالیوں اور پیداوار کی کمی کے ذریعے سزا دی۔

131۔ انہیں کوئی بھلائی ملتی ہے تو کہتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے (ملی) ہے۔ انہیں کوئی مصیبت آتی ہے تو موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو نحوست سمجھتے ہیں۔ یاد رکھو! جس کو وہ نحوست سمجھتے ہیں وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی ہے۔ لیکن ان میں اکثر یہ نہیں جانتے۔

132۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مسحور کر نے کے لئے تم جو بھی نشانی لاؤ ، ہم تمہیں ماننے والے نہیں۔ 

133۔ پس ہم نے ان کے خلاف سیلاب، ٹڈیاں،جوئیں، مینڈک اور خون جیسے واضح نشانیاں بھیجیں۔ وہ لوگ متکبر ہی رہے اور جرائم پیشہ لوگ ہی رہے۔ 

134۔ان کے خلاف جب بھی کوئی عذاب واقع ہوتا تو وہ کہتے کہ اے موسیٰ! تمہارا رب تمہیں جو وعدہ کیا تھا اس کے مطابق اس سے دعا کرو۔اگر تم ہم سے یہ مصیبت ہٹادیں تو ہم تمہیں مانیں گے۔ اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ بھیج دیں گے181۔ 

135۔ وہ پورا کر نے والے مقررہ وقت تک انہیں ہم عذاب سے نجات دینے کے ساتھ وہ اپنا عہد توڑ دیتے ہیں۔ 

136۔ وہ ہماری نشانیوں کو جھوٹ سمجھااور بے پرواہی برتی ، اس لئے ہم نے ان کو سزا دی اور انہیں سمندرمیں غرق کردیا۔ 

137۔ کمزور سمجھے جانے والی قوم کو ہماری برکت والی سر زمین کے مشرق اور مغربی حصوں کا مالک بنا دیا۔بنی اسرائیل صبر کو اپنانے کی وجہ سے تمہارے پروردگار کا اچھا وعدہ ان کے حق میں پوری طرح سے انجام پایا۔ فرعون اور اس کی قوم نے جو کچھ بنایا تھا اور جو اونچا اٹھایا تھاسب تباہ کردیا۔ 

138۔ بنی اسرائیل کو سمندر پار کروایا۔ اپنے بتوں کی پرستش میں لگے ہوئے لوگوں کے پاس وہ آئے۔ انہوں نے کہا کہ اے موسٰی! ان کے پاس جومعبود ہیں اسی طرح ہمارے لئے بھی معبود کا انتظام کرو۔ اس نے کہا کہ تم بڑے جاہل لوگ ہو۔ 

139۔ وہ لوگ جس میں ہیں وہ تباہ ہوجا ئے گا۔ وہ جو کررہے تھے سب بے کار ہے۔ 

140۔ (موسٰی نے) کہا کہ کیا میں اللہ کے سوا تمہارے لئے کوئی اور معبود قرار دوں؟ اسی نے تمہیں سارے جہاں والوں سے فضیلت دی ہے۔ 

141۔ یاد کرو کہ تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے، تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے، اس طرح سخت عذاب کا مزہ چکھانے والے فرعون کی قوم سے ہم نے تمہیں بچا لیا۔ تمہارے رب کی طرف سے اس میں سخت آزمائش تھی۔ 

142۔ موسٰی سے تیس راتوں کا وعدہ کیا۔اسے (اور) دس (راتوں)کے ذریعے پورا کیا۔ اس طرح ان کے پروردگارکی مقرر کی ہوئی مدت چالیس راتیں پوری ہوگئی18۔ موسٰی نے اپنے بھائی ہارون سے (پہلے ہی) کہا تھا کہ میری قوم کے لئے تم میرے بدلے میں46 رہ کر انہیں اصلاح کرنا۔ فساد کر نے والوں کی راہ پر مت چلنا۔ 

143۔ ہمارے مقرر کردہ جگہ پر موسٰی آئے اور ان کے پروردگار نے ان سے باتیں کی488 تو کہا کہ اے میرے پروردگار! (تجھے) مجھ کو دکھا دے۔میں تجھے دیکھنا ہے۔ (اللہ نے) فرمایاکہ تم مجھے دیکھ ہی نہیں سکتے۔ لیکن اس پہاڑ کی طرف دیکھو۔ اگر وہ اسی کی جگہ پر قائم رہا تو پھر تم مجھے دیکھ سکتے ہو۔ان کے رب نے اس پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔ موسٰی بے ہوش ہو کر گر پڑے۔ جب انہیں ہوش آیا تو کہنے لگے کہ تو پاک ہے10۔ میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں۔ ایمان لانے والوں میں میں سب سے پہلا ہوں21۔ 

144۔ (اللہ نے) کہا کہ اے موسٰی! میرے پیغام کے ذریعے اور میرے کلام 488کے ذریعے لوگوں کے مقابلے میں تمہیں چن لیا ہے۔ پس جو کچھ میں نے تم کو دیا ہے اسے تھام لو۔ اور شکر گزار بن جاؤ۔ 

145۔ تختیوں میں ان کے لئے ہر ایک بات لکھ دی۔ وہ نصیحت اور ہر بات کے لئے تفصیل تھی184۔(اللہ نے کہا کہ) اس کو مضبوطی سے تھام لو۔ اسے اچھی طرح سے تھام لینے کے لئے اپنی قوم کو بھی حکم دو۔ نا فرمانوں کا گھر میں تمہیں دکھاؤں گا428۔ 

146۔ ناحق زمین میں تکبر کر نے والوں کو میری نشانیوں سے پھیر دوں گا۔ وہ خواہ کوئی بھی نشانی دیکھ لیں اس پر ایمان نہیں لائیں گے۔اگر وہ سیدھی راہ دیکھیں تو اسے (اپنا) راستہ نہیں بنائیں گے۔ گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے وہ (اپنا) راستہ بنا لیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ہماری آیتوں کوجھوٹ سمجھااور اس سے وہ غافل رہے۔ 

147۔ ہماری آیتیں اور آخرت کی ملاقات کو جھوٹ سمجھنے والوں کے عمل ضائع ہو جائیں گے۔ ان کے عمل کے سوا کیا دوسری کسی چیز کا اجر دیا جائے گا؟ 

148۔ موسٰی کی قوم نے ان کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کی شکل بنا کر (معبود) تصور کر لیا۔ اس کو بیل کی آواز بھی تھی۔کیا وہ یہ نہیں سمجھ سکتے19 کہ وہ نہ ان سے بات کر سکتا ہے اور نہ انہیں کوئی راستہ دکھا سکتا ہے؟ اس کا تصور کر کے وہ ظالم ہوگئے۔ 

149۔ جب انہیں گمراہی کااحساس ہو گیاتو وہ افسو س کر تے ہوئے کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہ فرماتااور ہمیں معاف نہ کر تا تو ہم نقصان اٹھانے والے ہوجائیں گے۔

150۔ افسوس اور غصے کی حالت میں جب موسٰی اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو کہا کہ میرے بعد جو تم نے کیا تھا بہت برا ہے۔ کیا تمہارے پروردگار کے حکم (سزا) کے لئے جلدی کررہے ہو؟ تختیوں کو ڈال دیا۔ اپنے بھائی کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔(ان کے بھائی نے) کہا کہ اے میری ماں کے بیٹے! اس قوم نے مجھے کمزور سمجھ لیا۔ مجھے قتل کر نے کی کوشش بھی کی۔ اس لئے دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع پیدا نہ کرو۔ ظلم کر نے والی قوم میں مجھے بھی شامل نہ کردو۔ 

151۔ (موسٰی نے) کہا کہ اے میرے پروردگار! مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے۔ ہمیں تیری رحمت میں داخل فرما۔ تو رحم کرنے والوں میں بہت بڑا رحم کرنے والا ہے۔ 

152۔ بچھڑے کو اپنا معبود بنانے والوں کو ان کے رب کی طرف سے ناراضگی اور اس دنیوی زندگی میں ذلت بھی ہوگی۔ جھوٹ گھڑنے والوں کوہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں19۔ 

153۔ جو برے کام کئے ، پھر اصلاح کر کے ایمان لے آئے، اس کے بعد (انہیں) تمہارا پروردگار بخشنے والا ، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

154۔ جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو وہ تختیوں کو اٹھالیا۔ ان کی تحریر میں اللہ سے ڈرنے والوں کے لئے رحمت اور ہدایت ہے۔ 

155۔ ہماری مقرر کی ہوئی جگہ میں موسٰی نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کو چن لیا۔ جب انہیں زلزلہ نے آپکڑا تو (موسٰی ) دعا کر نے لگے392 کہ اے میرے پروردگار! اگر تو چاہتا تو (اس سے) پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کر دیتا۔ ہم میں سے چند بے وقوفوں کی حرکت کی وجہ سے کیا تو ہمیں ہلاک کر ے گا؟ یہ تیری آزمائش کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے ذریعے جس کوتو چاہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے، جس کو چاہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔ تو ہی ہمارا کارساز ہے۔ پس تو ہمیں معاف کردے اور ہم پر رحم فرما۔ تو ہی معاف کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔ 

156۔ (یہ بھی دعا کی ) ہمیں اس دنیا میں اورآخرت میں بھلائی لکھ دے۔ ہم تیری طرف رجوع کر لیا ہے۔(اللہ نے) فرمایا کہ میں اپنا عذاب جسے چاہتا ہوں دیتاہوں۔ اور میری رحمت ہر چیز کو گھیری ہے۔ جو(مجھ سے )ڈرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں ، ان کے لئے لکھ دوں گا۔ 

157۔لکھنے پڑھنے312 نہ جانے ہوئے152 اس رسول کی، اس نبی (محمد) کی وہ پیروی کر تے ہیں۔ ان کے پاس کی تورات اور انجیل491 میں ان کے بارے میں لکھا ہوا 457پاتے ہیں25۔ یہ انہیں بھلائی کا حکم دیتے ہیں، برائی سے روکتے ہیں۔ پاک چیزوں کوان کے لئے حلال کرتے ہیں، ناپاک چیزوں کو ان کے لئے حرام ٹہراتے ہیں186۔ ان کے بوجھ اور ان پر (جکڑے ہوئے) زنجیروں کووہ دور کرتے ہیں۔ جو لوگ ان پرایمان لاتے ہیں، انہیں عزت کرتے ہیں، انہیں حمایت کرتے ہیں اور ان پر اتاری گئی روشنی کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ 

158۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ اے لوگو! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں187&281۔ اسی کے لئے آسمانوں507 اور زمین کی بادشاہت ہے۔ اس کے سوا عبادت کے لائق کوئی نہیں۔ وہ زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے۔ اللہ اور اس کے رسول ،یعنی لکھنے پڑھنے312 نہ جاننے والے152 اس نبی پر ایمان لاؤ۔ یہ اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتے ہیں۔ ان کی پیروی کرو ، سیدھی راہ پاؤگے۔

159۔ موسٰی کی قوم میں سچائی کے مطابق راستہ دکھانے والے اور اسی کے مطابق انصاف کر نے والے بھی ہیں۔ 

160۔ اور انہیں بارہ شاخوں والی قوموں میں تقسیم کردیا۔ موسٰی کی قوم ان کے پاس جب پانی مانگا تو ہم نے کہا کہ اپنی لاٹھی سے اس چٹان پر مارو۔ فوراً اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ان پر ابر کا سایہ کیا۔ انہیں من و سلوٰی442 (نامی غذا) اتارا۔ (اورکہا کہ) ہم نے تم کو جو پاکیزہ چیزیں عطا کی ہیں ، انہیں کھاؤ۔ ان لوگوں نے ہمارا کوئی نقصان نہ کیابلکہ اپنا ہی نقصان کر لیا۔ 

161۔ یاد دلاؤ ان لوگوں سے جو کہا گیاتھا کہ تم اس بستی میں بس جاؤ۔ اس میں جو چاہتے ہو کھاؤ۔ اور کہو کہ معافی (چاہتے ہیں)۔ جھکتے ہوئے دروازے سے داخل ہوجاؤ۔ تمہاری گناہوں کو ہم بخش دیں گے۔ نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے۔

162۔ ان میں جو ظالم لوگ تھے (اوپر کہی گئی باتوں کو) ان سے نہ کہی گئی باتوں سے بدل ڈالا۔ اس لئے کہ انہوں نے ظلم کیا تھا، ان پر آسمان 507سے عذاب اتارا۔

163۔ سمندر کے کنارے واقع بستی کے بارے میں ان سے پوچھو۔ ہفتہ کے دن میں وہ جو حد سے گزر گئے تھے، انہیں یاد دلاؤ۔ ہفتہ کے دن مچھلیاں پانی کے سطح پر ان کے سامنے آگئیں۔ہفتہ کے سوا دوسرے دنوں میں وہ ان کے پاس نہیں آتیں ۔ ان کی نافرمانی کی وجہ سے23 اس طرح انہیں آزمایا484۔ 

164۔ ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ تم ان لوگوں کو نصیحت کیوں کرتے ہو جن کو اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ تمہارے پروردگار سے (بازپرس کے وقت) بچنے کے لئے اور وہ لوگ (اللہ سے) ڈرنے والے بننے کے لئے (انہیں ہم نصیحت کر تے ہیں)۔ 

165۔ جب وہ کہی ہوئی ان نصیحتوں کو بھول گئے تو ہم نے (صرف)برائی سے روکنے والے کو بچا لیا۔ جرم کرتے رہنے کی وجہ سے ظلم کر نے والوں کو سخت سزا دی188۔ 

166۔ جس سے منع کیاگیا تھا اس میں وہ حد سے نکل گئے تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر بن جاؤ23۔

167۔ یاد دلاؤ اس اعلان کو جو تمہارے رب نے کیا تھا کہ قیامت کے دن1 تک انہیں سخت عذاب دینے والوں ہی کو ان کے خلاف مقرر کیا جائے گا۔ تمہارا رب جلد سزا دینے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

168۔ انہیں زمین میں کئی گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں نیک لوگ بھی ہیں اوران میں اس طرح نہ ہونے والے بھی ہیں۔ ان کی اصلاح کے لئے انہیں اچھائیوں اوربرائیوں کے ذریعے ہم نے آزمایا484۔

169۔ ان کے بعد دوسری قوم نے ان کے بدلے46 میں آئی۔ وہ لوگ کتاب کو وراثت میں پائے تھے۔ (اس کے ذریعے) اس حقیر چیز کو حاصل کرلیتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمیں معاف کردیا جائے گا۔ اس جیسی حقیرچیز انہیں پھر مل جائے تو وہ اسے بھی لے لیں گے۔ کیا ان سے کتاب میں (وضاحت کے ساتھ)عہد نہیں لیا گیا تھا کہ اللہ کے نام سے سچ کے سوا (اور کچھ) نہ کہیں ۔جو اس میں ہے ، کیا انہوں نے نہیں پڑھا؟ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو آخرت کی زندگی ہی بہتر ہے۔ کیا تم (اسے) سمجھو گے نہیں؟ 

170۔ جو کتاب الٰہی کو مضبوطی سے پکڑے ہوئے نماز بھی قائم کرتے ہیں ، ایسے اصلاح کر نے والوں کا اجر ہم ضائع نہیں کرتے۔ 

171۔ جب ہم نے پہاڑکو ان کے اوپر بادل کی طرح بلند کیا، ان کو گمان ہوا کہ وہ ان پر گر پڑے گا تو (ہم نے) کہا کہ ہم نے تم کو جو دیا ہے اس کو مضبوطی سے پکڑو، اس میں جو ہے اس کویاد رکھو، (ہم سے) ڈرنے والے بنو گے22۔

173,172۔تمہارے رب نے اولاد آدم کی504 پیٹھوں سے 189ان کی نسل نکالا اور ان کو خود ان کے خلاف گواہ بنایا۔ (اور کہا کہ) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہاں! ہم (اس کی) گواہی دیتے ہیں۔ یہ( عہد وقرار) اس لئے لیا گیا تھا کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ اس سے ہم بے خبر تھے یا اس سے پہلے ہمارے باپ دادا نے شرک کیا تھا، ہم اس کے بعد آنے والے نسل تھے، کیا ان غلط کاروں کے فعل پر تو ہمیں ہلاک کرے گا؟ 26

174۔ ان لوگوں کی اصلاح کے لئے ہم اسی طرح دلیلیں واضح کر تے ہیں۔

175۔ (اے محمد!) انہیں ایک شخص کے بارے میں خبر سنادو۔ اس کو ہماری آیتیں دی تھیں۔ وہ ان سے نکل گیا۔ شیطان نے اس کا پیچھا کیا۔ پس وہ گمراہ ہوگیا۔ 

176۔ اگر ہم چاہتے تو اس کے ذریعے اس کو بلندی عطا کرتے۔ بلکہ اس نے اس دنیوی زندگی کی طرف مائل ہوگیا۔ وہ اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کر نے لگا۔ اس کی مثال کتے کی سی ہے۔ اگر تم اس پر حملہ کرو بھی تو وہ زبان لٹکائے رہتا ہے، اور اس کو چھوڑ دوبھی تو زبان لٹکائے رہتا ہے۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کی مثال یہی ہے۔ وہ غور کر نے کے لئے ان واقعات کو سناؤ۔ 

177۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھ کر اپنے آپ پر ظلم ڈھانے والے لوگ ہی بری مثال ہیں۔

178۔ اللہ جسے سیدھی راہ چلائے وہی ہدایت یافتہ ہے۔وہ جسے گمراہی میں چھوڑدے وہی نقصان یافتہ ہے۔ 

179۔ جنوں اور انسانوں میں ہم بہتوں کو دوزخ ہی کے لئے پیداکیا ہے۔ ان کے دل ہیں، ان سے وہ سمجھتے نہیں۔ ان کی آنکھیں ہیں، ان سے وہ دیکھتے نہیں۔ ان کے کان ہیں، ان سے وہ سنتے نہیں۔ وہ لوگ جانوروں کی طرح ہیں ۔ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ راہ بھٹکے ہوئے ۔ وہی لوگ غفلت برتنے والے ہیں۔ 

180۔ اللہ کے خوبصورت نام ہیں۔ ان ہی کے ذریعے اس سے دعا کرو۔ اس کے ناموں میں کجی پیدا کر نے والوں کو چھوڑ دو۔ وہ جو کر رہے تھے اس کے لئے انہیں سزا دی جائے گی190۔ 

181۔ ہم جسے پیدا کئے ہیں ان میں حق کا راستہ دکھانے والی قوم بھی ہے، اسی کے مطابق انصاف کر نے والے بھی ہیں۔ 

182۔ ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھنے والوں کو ان کی بے خبری میں چھوڑ کر پکڑیں گے۔ 

183۔ انہیں مہلت دیا ہوں۔ میرا منصوبہ مضبوط ہے۔ 

184۔ کیا ان لوگوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی (محمد) کو کوئی جنون نہیں۔ وہ تو صاف تنبیہ کرنے والے ہیں۔ 

185۔ آسمانوں507 اور زمین کی حکومت پر اور اس کی پیدا کی ہوئی دوسری چیزوں پر اور ان کا مقررہ وقت قریب آجانے پر کیا انہوں نے غور نہیں کیا؟اس کے بعد وہ کس بات پر ایمان لائیں گے؟

186۔ اللہ جسے گمراہی میں چھوڑدے اس کو راہ دکھانے والا کوئی نہیں۔ان کو ان کے سرکشی میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دے گا۔ 

187۔ (اے محمد!) وہ لوگ تم سے قیامت کے دن1 کے بارے پوچھتے ہیں۔تم کہہ دو کہ اس کا علم تو میرے رب کے پاس ہی ہے۔ اس کے وقت پر اس کے سوا کوئی اس کو ظاہر نہیں کرسکتا۔ آسمانوں 507اور زمین میں وہ بڑا بھاری قائم ہوگا۔ وہ تمہارے پاس اچانک ہی آئے گا۔ وہ تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ تم کہو کہ اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔ پھر بھی اکثر لوگ جانتے نہیں۔ 

188۔ (اے محمد!) تم کہو کہ اللہ کی مرضی کے سوا میں خود کے لئے بھی بھلائی یا برائی کر نے کا اختیار نہیں رکھتا۔ اگر میں غیب کی باتیں جاننے والاہوتا تو بھلائیاں زیادہ حاصل کرلیا ہوتا۔ کوئی بھی تکلیف مجھے پہنچی نہیں ہوتی۔ ایمان لانے والے لوگوں کو میں تو محض تنبیہ کر نے والا اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔ 

189۔ اسی نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا368۔ ان میں سے504 ان کی بیوی کو، اس کے پاس سے سکون حاصل کر نے کے لئے، پیدا کیا۔ وہ اس کے ساتھ صحبت کیا تو وہ ہلکا سا بوجھ اٹھانے لگی۔ جس کے ساتھ وہ چلتی پھرتی رہی۔اس کا( پیٹ ) جب بوجھل ہوگیا تو ان دونوں نے اپنے پروردگار اللہ کے پاس دعا کرنے لگے کہ (اعضاء میں)بغیر نقص کے تو ہمیں عطا کرے گا تو شکر گزار ہوں گے۔ 

190۔ ان دونوں کو (اعضاء میں) بغیر نقص کے جب اس نے عطا کیا تو انہیں جو اس نے دیا تھا،اس میں سے وہ شریک ٹہرانے لگے۔ ان کے شریک ٹہرانے سے اللہ برترو بالا ہے191۔ 

191۔ جو کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے کیا اس کو (اللہ کا) شریک ٹہراتے ہیں؟ وہ خود بھی پیدا کئے جاتے ہیں۔

192۔ اِن کو مدد کر نے کے لئے اُن سے نہیں ہوسکتا۔ وہ خود اپنے لئے بھی مدد نہیں کرسکتے۔

193۔ (کوئی بات) انہیں بتلانے کے لئے انہیں تم بلاؤ تو وہ تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔ تم انہیں بلاؤ یا خاموش رہو، تمہارے لئے دونوں برابر ہیں۔ 

194۔ اللہ کے سوا جنہیں تم بلاتے ہو وہ تمہارے ہی جیسے غلام ہیں۔ اگر تم سچے ہو تو تم انہیں پکار کر دیکھو۔ وہ تمہیں جواب دیں۔

195۔ کیاان کے پاس چلنے کے لئے پاؤں ہیں؟یا پکڑنے کے لئے ہاتھ ہیں؟ یا دیکھنے کے لئے آنکھیں ہیں؟ یا سننے کے لئے کان ہیں؟کہہ دو کہ تمہارے شریکوں کو بلا کر میرے خلاف سازش کرو۔ مجھے کچھ بھی مہلت نہ دو۔ 

196۔ (اور کہو کہ) اس کتاب کے اتارنے والے اللہ ہی میرا سرپرست ہے۔ وہی نیک بندوں کی سرپرستی کرتا ہے۔ 

197۔ اس کے سوا جن کو تم پکارتے ہو وہ تمہاری مدد نہیں کر سکتے۔ وہ اپنی خود کی بھی مددنہیں کر سکتے۔ 

198۔ (کوئی بات) بتلانے کے لئے انہیں تم پکارو تو وہ نہیں سنیں گے ۔ وہ تم کو دیکھتے ہوئے تم پاؤگے، (لیکن ) وہ نہیں دیکھتے۔ 

199۔ فیاضی اختیار کرو۔نیکی کا حکم دو۔ جاہلوں کو نظر انداز کردو۔

200۔ شیطان کی اکساہٹ تم پر ہو تو اللہ کے پاس پناہ مانگو۔ وہ سننے والا488، جاننے والاہے۔ 

201۔ (اللہ سے) ڈرنے والوں کو شیطان کی اکساہٹ پیدا ہوگا تو وہ فوراً سدھر جاتے ہیں۔ جب وہ جاگ جاتے ہیں۔ 

202۔ وہ (شیطان) اپنے بھائیوں کو گمراہی میں کھینچتے چلے جاتے ہیں۔ پھر (اس میں) کوئی کوتاہی نہیں رکھتے۔

203۔ (اے محمد!) ان کے پاس دلیل نہیں لے جاؤگے تو وہ پوچھتے ہیں کہ کیا تم اسے نہیں لاؤگے؟ تم کہہ دو کہ میرے پروردگار سے مجھے جو اطلاع ملتی ہے میں اسی کی پیروی کرتا ہوں۔ یہ تمہارے رب کی جانب سے روشن، ہدایت اور ایمان لانے والوں کے لئے رحمت ہے۔

204۔ قرآن جب پڑھا جائے تو اس کو سنو۔ منہ بند رکھو۔ تم پر رحم کیا جائے۔ 

205۔ اپنے پروردگار کو صبح و شام دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ ، بغیر اونچی آواز کے یاد کرو۔ غافلوں میں سے نہ بنو192۔ 

206۔ تمہارے رب کے پاس رہنے والے (فرشتے) اس کی غلامی کرنے سے منہ نہیں پھیرتے۔ اس کی پاکی بیان کرتے ہیں۔ اسی کی سجدہ کرتے ہیں396۔ 

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்