سورۃ الحج ۔ ایک فرض عبادت 22

0
71

سورۃ الحج ۔ ایک فرض عبادت 22

سورۃ : 22 کل آیتیں : 78

اس سورت کی آیت نمبر 27 سے 37 تک حج اور اس کے آداب کے متعلق ذکر ہوا ہے، اس لئے اس سورت کا یہ نام رکھا گیا ہے۔

بہت ہی مہربان، نہایت ہی رحم والے اللہ کے نام سے…

1۔ اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو۔ اس وقت 1کی ہلچل بڑی سخت چیز ہے۔ 

2۔ جس دن تم اسے دیکھوگے ہر دودھ پلانے والی ماں اپنے دودھ پلاتے (بچے) کو بھول جائے گی۔ہر حاملہ عورت اپنا حمل وضع کر دے گی۔ لوگوں کو تم مدہوش دیکھوگے۔ حالانکہ وہ مدہوش نہیں ہوں گے۔ بلکہ اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے۔ 

3۔ اللہ کے بارے میں کچھ جانے بغیر حجت کر نے والے، گمراہ کر نے والے شیطان کی پیروی کر نے والے بھی لوگوں میں موجود ہیں۔ 

4۔ اس کے خلاف لکھ دیا گیا ہے کہ جو شخص اسکو اپنا سرپرست بنائے گاوہ اسے گمراہ کر دے گا اور جہنم کے عذاب کی طرف راستہ دکھائے گا۔ 

5۔ اے لوگو! پھر سے زندہ کئے جانے میں اگر تم شک میں ہو تو (ہم واضح کر دیتے ہیں)۔ ہم نے تمہیں مٹی سے368، پھر نطفہ سے، پھر حمل شدہ بیضہ سے365&506، پھر مکمل کیاہوا اور نامکمل گوشت کے لوتھڑے سے پیدا کیا368۔ ہم جو چاہتے ہیں رحم میں ایک مقررہ مدت تک ٹہرائے رکھتے ہیں144۔ پھر تمہیں بچہ بنا کر باہر لاتے ہیں۔ پھر تم جوانی کو پہنچتے ہو۔ تم میں وفات پانے والے بھی ہیں۔ اور تم میں سب جاننے کے بعد کچھ بھی نہ جاننے والی معذور عمر تک لے جائے جانے والے بھی ہیں333۔ زمین کو تم خشک دیکھتے ہو ۔ اس پر ہم پانی برساتے ہیں تو وہ سرسبز ہو کرنشونما پاتی ہے اور ہر قسم کے خوبصورت نباتات اگاتی ہے۔ 

6۔ یہ اس لئے کہ اللہ ہی حق ہے، اور وہی مردوں کو زندہ کر تا ہے اور وہ ہرچیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ 

7۔ خاتمے کا وقت1 آ کر ہی رہے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ قبروں میں رہنے والوں کو اللہ زندہ کرے گا۔

8۔ علم، ہدایت اور روشن کتاب کے بغیراللہ کے معاملے میں بحث کرنے والا بھی لوگوں میں موجودہے۔ 

9۔ اللہ کی راہ سے گمراہ کر نے کے لئے اپنی گردن موڑ لیتا ہے۔ اس کے لئے اس دنیامیں رسوائی ہے۔ اور قیامت کے دن ہم اس کو جلتی ہوئی عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ 

10۔ (ہم کہیں گے کہ) یہ حالت تیرے کئے ہوئے کاموں ہی کی وجہ سے ہے۔ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کر نے والا نہیں۔ 

11۔ کنارے پر رہ کر اللہ کی عبادت کر نے والا بھی لوگوں میں ہے۔ اس کو کو ئی فائدہ پہنچے تو اس میں وہ مطمئن ہوجاتا ہے۔ اگر کوئی آزمائش آجائے484 تو سر کے بل بدل جاتا ہے۔ اس دنیا اور آخرت میں اس نے نقصان اٹھایا، یہی کھلا نقصان ہے۔ 

12۔ اللہ کے سواوہ انہیں پکارتا ہے جو اسے نہ تکلیف پہنچا سکتی ہے اور نہ فائدہ دے سکتی ہے۔ یہی دور کی گمراہی ہے۔ 

13۔ جس کا بھلائی سے زیادہ برائی بہت قریب ہے اس کو یہ پکارتا ہے۔ وہ بہت برا دوست ہے اوربرا سرپرست۔

14۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں جنت کے باغات میں اللہ داخل کر تا ہے۔ جن کے نچلے حصے میں نہریں جاری ہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

15۔ جو یہ خیال کر تا ہے کہ اس دنیامیں اور آخرت میں انہیں (محمدکو) اللہ ہرگز مدد نہیں کرے گاتو وہ آسمان کی طرف ایک رسی تان لے ، پھر (انہیں اللہ جو مدد کرتا ہے) اس کوروک ڈالے۔ اور یہ دیکھے کہ کیا یہ سازش اس کی نفرت کو دور کر دیتی ہے؟ 

16۔ اسی طرح ہم نے واضح آیتیں نازل کیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھا تا ہے۔

17۔ ایمان والے، یہودی، صابئن 443، عیسائی، مجوسی اور مشرک ، ان سب کے درمیان قیامت کے دن1 اللہ فیصلہ کرے گا۔ اللہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ 

18۔ کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان میں رہنے والے، زمین میں رہنے والے، سورج، چاند، ستارے، پہاڑ، درخت، چوپائے اور آدمیوں میں اکثریت اللہ کی اطاعت کر تے ہیں396۔ اور بہت سے لوگوں پر عذاب یقینی ہوچکا ہے۔ اللہ جسے ذلیل کردے اس کو کوئی عزت دینے والا نہیں۔ اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ 

19۔ اپنے پروردگار کے بارے میں بحث کر نے والے دو مدعیان یہ ہیں۔ (اللہ کا) انکار کرنے والوں کے لئے آگ کا لباس تیار کیا گیا ہے۔ ان کے سروں پر کھولتا ہوا پانی انڈیلا جائے گا۔ 

20۔ اس کے ذریعے ان کے پیٹوں میں رہنے والی چیزیں اور کھالیں پگھل جائیں گی۔ 

21۔ ان کے لئے لوہے کے ہتھوڑے بھی ہیں۔ 

22۔ تکلیف کے مارے وہ جب بھی وہاں سے نکلنے کا ارادہ کریں تو وہ پھر سے اس میں ڈھکیلے جائیں گے۔(ان سے کہا جائے گا کہ) جلانے والی عذاب چکھو۔

23۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے انہیں اللہ جنت باغات میں داخل کرے گا۔ جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ انہیں سونے کے کنگن اور موتی پہنائے جائیں گے۔ وہاں ان کا لباس ریشمی ہوگا۔ 

24۔وہ لوگ پاکیزہ عقیدے کی طرف رہنمائی کئے گئے۔ تعریفوں کے مستحق (اللہ) کے راستے کی طرف راہ دکھائے گئے۔ 

25۔ (اللہ کا) انکار کر نے والے، اللہ کی راہ اور مسجد حرام سے روکنے والے اور وہاں ظلم کے ذریعے جرم کرنے والوں کو درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ہم نے مسجد حرام کو (اس کے) قریب میں بسنے والے اور دور میں بسنے والوں کے لئے مساوی کر دیا290۔ 

26۔ یاد دلاؤ جبکہ ہم نے اس کعبہ کے33 جگہ کو ابراھیم کے لئے مقرر کر تے ہوئے کہا کہ مجھے کسی سے شریک مت کرنا۔ طواف کر نے والے،کھڑے ہوئے عبادت کر نے والے، رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لئے میرے گھر کو صاف و ستھرا رکھنا۔ 

27۔ (اور یہ بھی کہا کہ) لوگوں کو حج کے بارے میں اعلان کردو۔ وہ لوگ تمہارے پاس پیدل بھی اورایک ایک دبلے اونٹوں پربھی سوار ہو کر آئیں گے۔ وہ انہیں بہت دور دراز اور ہر ایک راستے سے لا کر پہنچائیں گے۔ 

28۔ وہ لوگ اپنے فائدے حاصل کر نے کے لئے اورانہیں سادہ لوح چوپایوں کوبخشنے کی وجہ سے مقررہ دنوں میں اللہ کانام لینے کے لئے (آئیں گے)۔اسے تم بھی کھاؤ171 اور مصیبت زدہ غریبوں کو بھی دو۔ 

29۔ پھر وہ لوگ اپنا میل کچیل دور کر نے دو۔ اپنے نذریں پوری کر نے دو۔ اس پرانے گھر کا طواف کر نے دو۔ 

30۔ یہی (اللہ کا فیصلہ) ہے۔ اللہ کی حرمتوں کو تعظیم کر نے والے کو اللہ کے نزدیک وہ ان کے لئے بہتر ہے۔ تمہارے لئے جوسنائے جائیں گے اس کے سوادوسرے چوپائے تمہارے لئے حلال کردئے گئے ہیں ۔ بتوں کی گندگی سے الگ ہٹ جاؤ۔ جھوٹ بولنے سے بھی بچو۔

31۔ اللہ کے سپرد کر کے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کر نے والے بنو۔ اللہ کے ساتھ شریک ٹہرانے والا گویا ایسا ہو جائے گاکہ آسمان 507 سے گرپڑا اور اسے پرندے اچک لے گئے416 یاہوا اس کو کہیں دور اڑا لے جا کر پھینک دیاہو۔ 

32۔ یہی (اللہ کاحکم) ہے۔جو اللہ کی نشانیوں کااحترام کر تا ہے وہ ان کے دل میں موجود خوف الہٰی کا اظہار ہے۔ 

33۔ ان (چوپایوں ) میں مقررہ وقت تک تمہارے لئے فائدے ہیں383۔پھر ان کے پہنچنے کی جگہ وہی قدیم عبادت خانہ ہے33۔ 

34۔ سیدھے سادھے چوپائے انہیں عطا کر نے کی وجہ سے اللہ کا نام یاد کر نے کے لئے ہر ایک امت کو ہم نے عبادت کا طریقہ مقرر کیا۔ تمہارا معبودایک ہی معبود ہے۔تم اسی کے مطیع رہو۔ عاجزی کر نے والوں کو خوشخبری سنادو۔ 

35۔ اللہ کے بارے میں کہا جائے تو ان کے دل کانپ جاتے ہیں۔ جو بھی انہیں پہنچتی ہے اسے وہ برداشت کر لیتے ہیں۔ نماز قائم کر تے ہیں۔ ہمارے دئے ہو ئے میں سے (نیک راہ میں) خرچ کر تے ہیں۔ 

36۔ (قربانی کے) اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ (کے دین) کی نشانیوں میں سے ایک بنایا ہے۔ ان میں تمہارے لئے بھلائی ہے۔ کھڑا رکھنے کی حالت میں اس پر اللہ کا نام لو۔ پھر وہ جب پہلو کی طرف گر پڑے تو اس میں سے کھاؤ۔ مانگنے والے اور نہ مانگے والوں کو کھلاؤ171۔ تم شکر ادا کر نے کے لئے اسی طرح ہم اس کو تمہارے لئے نفع بخش بنایا۔ 

37۔ ان کا گوشت اور ان کا خون اللہ کو نہیں پہنچتا۔ بلکہ تمہاراخوف (الہٰی) ہی اسے پہنچتی ہے292۔ اللہ نے تمہیں سیدھی راہ دکھانے کی خاطر اس کی بڑائی بیان کر نے کے لئے اسی طرح وہ تمہارے لئے فائدہ مند بنا دیا ہے۔ نیکی کر نے والوں کو خوشخبری دے دو۔ 

38۔ ایمان والوں سے (دشمنی کو) اللہ روک دیتا ہے۔ دغابازوں اور ناشکر وں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ 

39۔ اس وجہ سے کہ جن کے خلاف جنگ کیاگیا، وہ مظلوم ہیں، انہیں بھی (ان کے خلاف جنگ کر نے کے لئے) اجازت دی گئی ہے۔اللہ ان کی مدد کر نے پر قادر ہے53۔ 

40۔انہوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہی ہے، اس لئے وہ لوگ ناحق اپنے گھروں سے نکال دئے گئے ۔ لوگوں میں ایک کے ذریعے دوسرے کواگر اللہ نے روکا نہ ہوتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور اللہ کانام کثرت سے لئے جانے والے مسجدیں ڈھا دئے جاتے433۔ اس کی مدد کر نے والوں کو اللہ بھی مدد کر تا ہے۔ اللہ بڑی قوتوں والا ، زبردست ہے۔

41۔ اگر ہم انہیں زمین میں موقع دیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ بھی دیں گے۔ بھلائی کاحکم دیں گے اور برائی سے روکیں گے۔ سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ 

44,43,42۔ (اے محمد!) اگر وہ تمہیں جھوٹا سمجھیں تو وہ ان سے پہلے قوم نوح، قوم عادو ثمود، قوم ابراھیم، قوم لوط اور مدین والے کوبھی جھوٹا سمجھے تھے۔ موسیٰ بھی جھوٹے سمجھے گئے تھے۔ پس(میرے) انکار کر نیوالوں کومیں نے مہلت دی۔ پھر ان کو پکڑا۔ میرا عذاب کیسا رہا26؟ 

45۔ ظلم کر تے رہنے کی حالت میں ہم نے کتنی ہی بستیوں کو تباہ کر دیا۔ وہ اپنی چھتوں سمیت گری پڑی ہیں۔ بے توجہ کنویں!برباد قلعے! 

46۔ کیا وہ زمین میں سفر نہیں کئے؟ (اگر کئے ہوں تو) انہیں سمجھنے والے دل اور سننے والے کان ہوتے۔ آنکھیں اندھی نہیں ہوئیں۔ بلکہ دلوں کے فکر ہی اندھے ہوگئے۔ 

47۔ (اے محمد!) وہ لوگ تم سے عذاب جلد مانگ رہے ہیں۔ اللہ ہر گز اپنا وعدہ خلاف نہیں کرتا۔ تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن ، تمہارے حساب کے مطابق ایک ہزار سال کے مانند ہے293۔ 

48۔ کتنی ہی بستیوں کو ان کے ظلم کر نے کی حالت میں ہم نے مہلت دی۔ پھر اسے سزا دی۔ میرے ہی پاس ان کا لوٹنا ہے۔ 
49۔ (اے محمد!) کہہ دو کہ لوگو! میں تمہیں واضح طور پر آگاہ کر نے والا ہوں187۔ 

50۔ایمان لا کر نیک عمل کر نے والوں کو مغفرت اور عزت کی روزی ہے۔ 

51۔ ہماری آیتوں کو پست کر نے کی کوشش کر نے والے ہی جہنمی ہیں۔ 

53,52۔ (اے محمد!) تم سے پہلے ہم نے جسے بھی نبی اور رسول398 بھیجا ، جب وہ پڑھنے لگتے ہیں تو ان کے پڑھنے میں شیطان(غلط قسم کا وسوسہ) ڈالے بغیر نہیں رہا294۔ جس کے دل میں مرض ہے ان کو اور سخت دل رکھنے والوں کوشیطا ن کے ڈالے ہوے کو آزمائش بنانے کے لئے اللہ اس کو بدل دیتا ہے۔ پھر اپنی آیتوں کو ثابت کردیتا ہے۔ اللہ جاننے والا، حکمت والا ہے۔ ظلم کر نے والے دور کی مخالفت میں پڑے ہوئے ہیں26۔ 

54۔ (اے محمد!اللہ نے یہ اس لئے کیا ہے کہ) جنہیں علم دیا گیاہے وہ یہ جان کر مان لیں کہ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے آئی ہوئی سچائی ہے اور ان کے دل اس کے آگے جھک جائیں۔ ایمان والوں کو اللہ سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ 

55۔ ان کے پاس خاتمے کا وقت اچانک آنے تک یا فائدے سے خالی دن کا عذاب انہیں پہنچنے تک (اللہ کا) انکار کر نے والے اس میں شک و شبہ ہی میں پڑے رہیں گے۔ 

56۔ اس دن بادشاہت اللہ ہی کے لئے ہے۔ ان کے درمیان وہ فیصلہ فرمائے گا۔ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے وہ دائمی جنت کے باغات میں ہوں گے۔ 

57۔ جو(ہمیں)انکار کیا اور ہماری آیتوں کو جھوٹ سمجھا انہیں ذلت کا عذاب ہوگا۔ 

58۔ جنہوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت 460کی اور مارے گئے یا مر گئے تو انہیں اللہ اچھا رزق عطا کرے گا۔اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے463۔ 

59۔ ان کے اطمینان والی جگہ پر انہیں داخل کر ے گا۔ اللہ جاننے والا، بردبار ہے۔ 

60۔ یہی (اللہ کا حکم) ہے۔ اگر کوئی جتنا اس کو ستا یا گیااسی طرح (اس کے مسبب کو) ستاتے وقت اس کے لئے اس پر پھر سے ظلم کیا جائے تو اللہ اس کی مدد فرمائے گا۔اللہ درگزر کر نے والا اور بخشنے والا ہے۔ 

61۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ دن میں رات کو داخل کر تا ہے اور رات میں دن کو داخل کر تا ہے۔ اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے488۔ 

62۔اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ ہی حق ہے۔ اس کے سوا جسے وہ پکارتے ہیں سب باطل ہیں۔ اللہ سب سے بلند اور بڑا ہے۔

63۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے ، (جس سے) زمین سرسبزو شاداب ہوجاتی ہے؟ اللہ باریک بین اور باخبر ہے۔ 

64۔ جو کچھ آسمانوں507 میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ اللہ بے نیاز ، تعریفوں والا ہے485۔ 

65۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ زمین میں رہنے والی اور اس کے حکم کے مطابق سمندر میں چلنے والی کشتی بھی اللہ نے تمہارے لئے فائدہ مند بنادی ہے؟ اس نے بغیراس کے حکم کے زمین پر آسمان507 کوگرنے سے روک رکھا ہے240۔ اللہ لوگوں پر شفقت کر نے والا، نہایت ہی رحم والا ہے۔ 

66۔اسی نے تم کو زندگی بخشی۔پھر تمہیں موت دے گا۔ پھر تمہیں زندہ کر ے گا۔ انسان تو بڑا ہی ناشکرا ہے۔ 

67۔ (اے محمد!) ہم نے ہر قوم کے لئے عبادت کا ایک طریقہ مقرر کیاتھا۔ اس کی وہ پیروی کر نے لگے۔ اس معاملے میں وہ تم سے بحث نہ کر نا چاہئے۔ تمہارے رب کی طرف بلاؤ۔ تم سیدھے راستے پر ہو۔ 

68۔ اگر وہ تم سے بحث کریں تو (اے محمد!) کہہ دو کہ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔ 

69۔ جن باتوں میں تم اختلاف کر رہے ہو اللہ تمہارے درمیان قیامت کے دن1 فیصلہ کردے گا۔ 

70۔ (اے محمد!) کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ جانتا ہے؟ یہ سب کتاب157 میں موجود ہے۔ یہ اللہ کے لئے آسان ہے۔ 

71۔ اللہ کو چھوڑ کر وہ لوگ ان چیزوں کی پرستش کر تے ہیں جن کے لئے اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور جن کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں ہے۔ ظالموں کو کوئی مددگار نہیں۔ 

72۔ جب انہیں ہماری واضح آیتیں سنائی جاتی ہیں تو (ہمارے) انکار کر نے والوں کے چہروں میں ناگواری دیکھتے ہو۔ ہماری آیتوں کو ان کے پاس بولنے والوں پر حملہ کرنے کی بھی وہ کوشش کریں گے۔ (اے محمد!) تم پوچھو کہ کیا میں اس سے زیادہ بدتر چیزتم سے کہوں؟ وہ ہے جہنم۔ انکار کر نے والوں کو اللہ اسی کا وعدہ کیا ہے۔ وہ پہنچنے کی جگہ میں بہت برا ہے۔ 

73۔ اے لوگو! تمہیں ایک مثال دی جاتی ہے۔ اسے دھیان سے سنو۔ اللہ کے سوا جنہیں تم پکارتے ہو وہ سب مل کر بھی ایک مکھی بھی پید انہیں کرسکتے۔ مکھی اگر ان سے کوئی چیز چھین لے تو اسے اس مکھی سے چھڑابھی نہیں سکتے۔ طالب اور مطلوب سب کمزور ہیں۔ 

74۔ وہ لوگ اللہ کی جس طرح قدر کر نی چاہئے تھی اس طرح قدر نہیں کی۔ اللہ بڑا ہی طاقتور اور زبردست ہے۔ 

75۔ فرشتوں507 اور انسانوں میں سے اللہ رسولوں کو چن لیتا 261ہے۔ اللہ سننے والا488 دیکھنے والا ہے488۔

76۔ ان کے آگے اور پیچھے جو کچھ ہے اسے وہ جانتا ہے۔ سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لے جایا جائے گا۔ 

77۔ اے ایمان والو! رکوع کرو۔ سجدہ کرو396۔ اپنے رب کی عبادت کرو۔ اور نیک کام کرو۔ شاید تم کامیاب ہوجاؤ۔ 

78۔ اللہ کے لئے جس طرح جہاد کر نا ہو اس طرح جہاد کرو۔ یہ رسول (محمد) تم لوگوں کو سمجھائیں اور تم دوسروں کو سمجھانے کے لئے اس نے تمہیں چن لیا ہے۔ تمہارے باپ ابراھیم کی اس دین میں وہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائی68۔ اس سے پہلے بھی اور اس میں بھی وہی تمہارا نام مسلمان295 رکھا۔ پس تم نماز قائم کرو۔ زکوٰۃ ادا کرو۔ اللہ کو مضبوطی سے تھامو۔ وہی تمہارا محافظ ہے۔ وہ بہترین محافظ ہے۔ اور بہترین مددگار۔ 

பகிர்

பதிலளி

உங்கள் கருத்துகளை பதிவிடுங்கள்
உங்கள் பெயர்